(۹۹۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ بَہزِ بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : فِی کُلِّ إبِلٍ سَائِمَۃٍ أَرْبَعِینَ بِنْتُ لَبُونٍ ، لاَ یُفَرَّقُ إبِلٌ عَنْ حِسَابِہَا ، مَنْ أَعْطَاہَا مُؤْتَجِرًا فَلَہُ أَجْرُہُ ، عَزْمَۃٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا ، لاَ یَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْہَا شَیْئٌ۔ (ابوداؤد ۱۵۶۹۔ احمد ۵/۴)
(٩٩٨٦) حضرت بہز بن حکیم اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چرنے والے اونٹ اگر چالیس ہوجائیں تو اس پر ایک بنت لبون زکوۃ ہے، اونٹ کو اس کے حساب سے جدا نہیں کریں گے، اور جو شخص زکوۃ ادا کرے اللہ تعالیٰ سے اجر طلب کرتے ہوئے تو اس کے لیے اس کا اجر ہے، عزیمۃ ہے ہمارے رب کی عزیمتوں میں سے۔ ال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے زکوۃ میں سے کوئی چیز بھی حلال نہیں ہے۔