hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 9991

.

ابن أبي شيبة

9991
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۹۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی الْیَمَنِ أَنْ یُؤْخَذَ مِنَ الإِبِلِ مِنْ کُلِّ خَمْسٍ شَاۃٌ ، وَمِنْ کُلِّ عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَمِنْ خَمْسَۃَ عَشَرَ ثَلاَثُ شِیَاہٍ ، وَمِنْ عِشْرِینَ أَرْبَعُ شِیَاہٍ ، وَمِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ خَمْسُ شِیَاہٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا بِنْتُ مَخَاضٍ إلَی خَمْسٍ وَثَلاَثِینَ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِی الإِبِلِ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَکَرٌ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا بِنْتُ لَبُونٍ إلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا حِقَّۃٌ إلَی سِتِّینَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا جَذَعَۃٌ إلَی خَمْسٍ وَسَبْعِینَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا بِنْتَا لَبُونٍ إلَی تِسْعِینَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا حِقَّتَانِ إلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ ، فَإِذَا کَثُرَتِ الإِبِلُ فَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ ، وَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ بِنْتُ لَبُونٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُؤْخَذُ فِی الصَّدَقَۃِ تَیْسٌ ، وَلاَ ہَرِمَۃٌ ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ ۔ قَالَ الأَجْلَحُ : فَقُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : مَا یَعْنِی بِقَوْلِہِ : لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ ؟ قَالَ : الرَّجُلُ تَکُونُ لَہُ الْغَنَمُ فَلاَ یُفَرِّقُہَا کَیْ لاَ یُؤْخَذَ مِنْہَا صَدَقَۃٌ ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ الْقَوْمُ تَکُونُ لَہُمَ الْغَنَمُ لاَ تَجِبُ فِیہَا الزَّکَاۃُ ، فَلاَ تُجْمَعُ فَتُؤْخَذُ مِنْہَا الصَّدَقَۃُ۔
(٩٩٩١) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن (کے قاضی کو) لکھا : پانچ اونٹوں پر ایک بکری زکوۃ ہے، اور دس اونٹوں پر دو بکریاں، اور پندرہ اونٹوں پہ تین بکریاں اور بیس اونٹوں پہ چار اور پچیس اونٹوں پہ پانچ بکریاں اور پچیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر بنت مخاض ہے پینتیس اونٹوں تک، اور اگر زکوۃ میں دینے کیلئے بنت مخاض نہ پائے تو مذکر ابن لبون دیدے۔ اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پینتالیس تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ اونٹوں سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پچھتر اونٹوں تک ایک جذعہ ہے اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو اس پر دو بنت لبون ہیں۔ نوے تک اسی طرح ہے، جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں، پھر جب اونٹ ایک سے بیس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون آئے گا، اور متفرق کو جمع اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور زکوۃ وصول کرتے وقت بہت چھوٹا یا بہت بوڑھا جانور وصول نہیں کیا جائے گا (بلکہ درمیانہ وصول کیا جائے گا) اور نہ کانا اور بہت کمزور جانور وصول کیا جائے گا۔
اجلح راوی فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی سے پوچھا کہ لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کے پاس چوپائے ہوں تو وہ اس نیت سے ان کو متفرق نہ کرے تاکہ متفرق (جب نصاب زکوۃ نہ پہنچے تو اس پر) پر زکوۃ نہ آئے اور نہ ہی متفرق کو جمع کرے یعنی کسی قوم کے پاس چوپائے تو ہوں لیکن ان پہ زکوۃ نہ آرہی ہو تو مصدق (زکوۃ وصول کرنے والا) ان سب کو ایک ساتھ جمع کر کے زکوۃ وصول نہ کرے۔