(۹۹۹۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ کِتَابَ الصَّدَقَۃِ ، فَقَرَنَہُ بِسَیْفِہِ ، أَوَ قَالَ : بِوَصِیَّتِہِ فَلَمْ یُخْرِجْہُ حَتَّی قُبِضَ ، عَمِلَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی ہَلَکَ ، ثُمَّ عَمِلَ بِہِ عُمَرُ حَتَّی ہَلَکَ ، فَکَانَ فِیہِ : فِی الإِبِلِ إذَا زَادَتْ عَلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ ، فَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ ، وَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ ابْنَۃُ لَبُونٍ۔
(٩٩٩٩) حضرت ابن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کے بارے میں لکھا تو اس کو اپنی تلوار کے ساتھ رکھ دیا یا (راوی کو شک ہے) وصیت کے ساتھ اس لکھے ہوئے کو نہیں نکالا مرنے تک پھر آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اس پر مرنے تک عمل کرتے رہے پھر آپ کے بعد حضرت عمر مرنے تک اس پر عمل کرتے رہے۔ اس میں لکھا ہوا تھا : اونٹ جب ایک سو سے بیس سے زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون زکوۃ ہے۔