10 – "ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده وأنه لاإله إلا الله وأعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه كل عام ولايعطي الهرمة ولا الرديئة (1) ولا المريضة ولا الشرط اللئيمة (2) ولكن من أوسط أموالكم فإن الله لم يسألكم خيره ولا (3) يأمركم بشره وزكى نفسه" (د عن عبد الله بن معاوية العامري (4)
١٠۔۔۔ جس شخص نے تین کام انجام دے لیے یقیناً اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا محض ایک اللہ کی عبادت کی، لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا، دل کی خوشی کے ساتھ ہر سال اپنے مال کی زکوۃ ادا کی۔ بوڑھاجانور دیا، نہ بےوقت۔ مریضہ نہ بےمصرف۔ بلکہ اپنے اوسط درجہ کا مال دیا بیشک اللہ تعالیٰ تم سے بہترین مال کا سوال کرتا اور نہ ردی مال کا حکم کرتا۔ اور نہ تمہیں اپنے نفسوں کی بڑائی جتانے کی حکم کرتا ہے۔ ابوداؤد بروایت عبداللہ بن معاویہ ، الغامری۔
الھرمہ۔۔۔ ایسی بوڑھی اونٹنی کو کہتے ہیں جس کے دانت گرچکے ہوں اور اس کالعاب منہ میں نہ ٹھہرتا ہو۔
الدرنہ۔۔۔ گھٹیامال کو کہتے ہیں اصل لفظ الدرئنہ، ہی ہے معاجم احادیث کی کتب میں اسی طرح مذکور ہے جبکہ بعض کتب میں الردینہ لفظ ہے الشرط اللتیمہ، ایسے بےکارو بےمصرف جانور کو کہتے ہیں جو بہت زیادہ چھوٹا ہو یا بہت بڑا بکری کے انتہائی کمسن بچوں کو بھی کہتے ہیں۔