1002 – "مهما أوتيتم من كتاب الله فالعمل به لا عذر لأحد في تركه، فإن لم يكن في كتاب الله فسنة مني ماضية، فإن لم تكن سنة مني فما قال أصحابي، إن أصحابي بمنزلة النجوم في السماء فأيها أخذتم اهتديتم واختلاف أصحابي لكم رحمة". (ق في المدخل وأبو نصر السجزي في الإبانةوقال غريب والخطيب وابن عساكر والديلمي عن سليمان ابن أبي كريمة عن جويبر الضحاك عن ابن عباس) وسليمان ضعيف وكذا جويبر.
١٠٠٢۔۔ خبردار تم کو اللہ کی کتاب مل چکی ہے ، اب اس پر عمل کرنا لازم ہوگیا ہے کسی کو اس کے ترک کرنے کا کوئی عذر نہیں ۔ سو اگر کوئی بات کتاب اللہ میں نظر نہ آئے تو میری سنت جاریہ کو پکڑو، اور اگر اس کے متعلق میری سنت نہ پاؤ تو پھر میرے اصحاب کے قول کو لازم پکڑ لو بیشک میرے اصحاب آسمان کے تاروں کی مانند ہیں کسی کی راہ بھی تھام لو ہدایت یاب ہوجاؤ گے اور میرے اصحاب کا اختلاف تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔ بخاری و مسلم ، فی المدخل، ابونصر السجری ، فی الابانہ، الخطیب ابن عساکر، الدیلمی ، بروایت سلیمان بن ابی کریمہ عن جویر عن الضحاک عن ابن عباس (رض)۔ سلیمان اور جویر دونوں راوی حدیث ضعیف ہیں اور ابونصر السجری نے بھی اس حدیث کو غریب فرمایا ہے۔