10158 كان في بني إسرائيل رجل قتل تسعة وتسعين إنسانا ، ثم خرج يسأل فأتيت راهبا ، فقال : أله توبة ؟ فقال : لا ، فقتله ، فجعل يسأل فقال له رجل : ائت قرية كذا وكذا فادركه الموت فناء بصدره نحوها ، فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فأوحى الله تعالى إلى هذه أن تقربي وأوحى الله إلى هذه أن تباعدي ، وقالوا : قيسوا ما بينهما فوجداه إلى هذه أقرب بشبر فغفر ل.(ق عن أبي سعيد).
10154 ۔۔۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا، پھر وہ پوچھتا پچھاتا نکلا اور ایک راھب کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، تو اس قاتل نے اس راھب کو بھی قتل کردیا اور اپنے سو قتل مکمل کرلئے، پھر لوگوں سے پوچھنے لگا توا سے کسی نے بتایا کہ فلاں فلاں علاقے میں جاؤ، وہ چل پڑا لیکن راستے میں اسے موت نے آلیا، اس نے مرتے مرتے اپنا سینہ اس نیکیوں کی بستی کی طرف جھکا دیا، چنانچہ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے، ادھر اللہ تعالیٰ نے نیکوں کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو اس سے قریب ہوجا اور بری سرزمین کو حکم دیا کہ تو اس سے دور ہوجا فرشتوں نے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ دونوں طرف کی زمین کو ناپا جائے چنانچہ انھوں نے اس شخص کو بالشت بھر نیکوں کی سرزمین سے زیادہ نزدیک پایا لہٰذا اس کی مغفرت کردی گئی “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوسعید (رض))