1016 - " إنه أتاني الليلة آتيان ملكان فقعد واحد عند رأسي والآخر عند رجلي قال أحدهما للآخر اضرب مثله ومثل أمته فقال إن مثله ومثل أمته كمثل قوم سفر انتهوا إلى رأس مفازة فلم يكن معهم من الزاد ما يقطعون به المفازة ولا يرجعون فبينما هم كذلك إذ أتاهم رجل مرجل في حلة حبرة فقال: أرأيتم إن أوردت بكم رياضا معشبة وحياضا رواء فأكلوا وشربوا وسمنوا فقال لهم ألم آتكم على تلك الحال فقلت لكم فصدقتم فقالوا بلى فقال إن بين أيديكم أرضا أعشب من هذا وحياضا أروى من هذه فاتبعوني فقال طائفة صدق والله لنتبعن وقال طائفة قد رضينا بهذه نقيم عليه". (ك عن سمرة) .
١٠١٦۔۔ میرے پاس گزشتہ رات دو فرشتے آئے ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائینتی بیٹھ گیا۔ ایک نے دوسرے سے کہا، اس کی اور اس کی امت کوئی مثال بیان کرو دوسرا گویا ہوا اس کی اور اس کی امت کی مثال اس مسافر قوم کی سی ہے جو چلتے چلتے ایک بےآب وگیاہ جنگل کے سرے پر جاپہنچی ، لیکن ان کے ساتھ زاد رہ انھیں ہے، جس سے جنگل کو قمع کرسکیں واپس اپنے مستقر پر پہنچ سکیں۔ اسی پیچ وتاب میں تھے کہ ایک سنورے بالوں والا یمنی چادر میں ملبوس شخص کا ان پر گزر ہوا۔ اور ان کی حالت زار پر رحم کھاتے ہوئے ان سے کہنے لگا آؤ میں تم کو شاداب باغیچوں اور جاری پانی کے حوضوں پر اتاردوں۔ وہ چل دیے۔ اور اس سرسبز مقام پر عیش و عشرت کے ساتھ کھاتے پیتے خوب فربہ ہوگئے۔ پھر اس ہمدرد نے ان کو دوبارہ کہا : کیا میں تمہارے پاس تمہاری سابقہ پریشانی اور پراگندہ ہیبت میں نہیں آیا تھا، اور تم سے صدق بیانی سے کام لیا تھا ؟ وہ بیک آواز بولے بےشک۔ اس پر اس شخص نے کہا تو آؤ اب تمہارے آگے اس بھی کہیں زیادہ سرسبز عمدہ زمین اور بہتے چشمے ہیں، سو میری اتباع کرو۔ ایک جماعت نے کہا، بیشک یہ سچ گو انسان ہے خدا کی قسم ہم اس کی ضرور پیروی کریں گے دورسری جماعت انجام سے بےخبر بولی ہم تو اسی پر خوش ہیں اور یہیں قیام کریں گے۔ المستدرک للحاکم، بروایت سمرہ۔