10167 والله لله أشد فرحا بتوبة عبده من رجل كان في سفر في فلاة من الارض فآوى إلى ظل شجرة ، فنام تحتها واستيقظ ، فلم يجد راحلته ، فأتى شرفا فصعد عليه فاشرف عليه ، فلم ير شيئا ، ثم أتى آخر فأشرف فلم ير شيئا ، فقال : أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه ، فأكون فيه حتى أموت ، فذهب فإذا براحلته تجر خطامها ، فالله أشد فرحا بتوبة عبده من هذا براحلته.(حم م عن النعمان بن بشير).
10163 ۔۔۔ خدا کی قسم یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جو جنگل بیابانوں میں سفر کررہا تھا دوران سفر ایک درخت کے سائے میں آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا اور سوگیا جب اٹھا تو اس کی سوار گم ہوچکی تھی، چنانچہ وہ ایک ٹیلے پر چڑھا اور ادھر ادھر دیکھا لیکن کچھ دکھائی نہ دیا، پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھا وہاں بھی کچھ دکھائی نہ دیا، تو کہنے لگا کہ میں وہیں واپس چلا جاتا ہوں جہاں آرام کررہا تھا اور وہیں موت کا انتظار کروں ، چنانچہ وہ وہیں چلا گیا اور کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اپنی لگام کھینچتے ہوئے آرہی ہے تو یہ دیکھ کر اس کو جتنی خوشی ہوگی اس سے کہیں زیادہ خوشی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے ہوتی ہے “۔ (مسند احمد، مسلم بروایت حضرت نعمان بن بشیر (رض))