20172 إن التوبة تغسل الحوبة ، وإن الحسنات يذهبن السيئآت وإذا ذكر العبد ربه في الرجاء أنجاه الله في البلاء ، وذلك لان الله يقول : لا أجمع لعبدي أبدا أمنين ، ولا أجمع له خوفين ، إن هو أمنني في الدنيا خافني يوم أجمع فيه عبادي ، وإن هو خافني في الدنيا أمنته يوم أجمع فيه عبادي في حظيرة القدس ، فيدوم له أمنه ، ولا أمحقه فيمن أمحق.(حل عن شداد بن أوس)
10168 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک توبہ گناہوں کو دھو دیتی ہے، اور نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں اور جب بندہ امید کی حالت میں اپنے رب کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ مصیبت سے اس کو نجات دیتے ہیں اور اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” میں کبھی اپنے بندے کے لیے دوامن جمع نہیں کرتا اور نہ دو خوف جمع کرتا ہوں، اگر وہ دنیا میں مجھ سے پرامن رہا تو اس دن مجھ سے خوف زدہ ہوگا جس دن میں اپنے بندوں کو جمع کروں گا، اور اگر وہ مجھ سے دنیا میں خوفزدہ رہا تو اس کو میں اس دن امن دوں گا جس دن اپنے بندوں کو خطیرۃ القدس میں جمع کروں گا، چنانچہ وہ ہمیشہ امن سے رہے گا اور میں اس کو اس چیز میں ہلاک نہ کروں گا، ۔۔۔ جس میں ہلاک کرتا ہوں “۔ (حلیہ ابونعیم بروایت حضرت شداد بن اوس (رض))