10189 إن العبد إذا أخطأ خطيئة نكتت في قلبه نكتة سوداء فان هو نزع واستغفر وتاب صقل قلبه ، وإن عاد زيد فيها حتى تعلو على قلبه ، وهو الران الذي ذكر الله (كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون).(حم ت ن ه حب ك هب عن أبي هريرة).
10185 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بندہ جب کوئی خطا کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، سو اگر وہ معافی مانگ لے اور توبہ کرلے تو اس کے دل سے وہ سیاہ نکتہ صاف کردیا جاتا ہے، اور اگر دوبارہ وہ گناہ کرے تو وہ نکتہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور یہی وہ ” ران “ ہے جس کا ذکر اللہ پاک نے فرمایا ہے “ (ہرگز نہیں، دیکھو یہ جو) اعمال کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، مستدرک حاکم بیھقی، شعب الایمان بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))