10274 ما سافر رجل في أرض تنوفة فقال تحت شجرة ومعه راحلته ، عليها زاده وطعامه ، فاستيقظ وقد أفلت راحلته ، فعلا شرفا فلم ير شيئا ، ثم علا شرفا فلم ير شيئا ، فالتفت فإذا هو بها تجر خطامها ، فما هو أشد فرحا من الله بتوبة عبده إذا تاب إليه.(ك عن النعمان بن بشير) (ك عن البراء).
10270 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص بےآب وگیاہ زمین میں سفر کررہا تھا اور درخت کے نیچے آرام کرنے لگا اس کے ساتھ اس کی سواری بھی تھی جس پر اس کا کھانا اور پانی بھی تھا، جب وہ جاگا تو اس کی سواری گم ہوچکی تھی، لہٰذا وہ بندہ ٹیلے پر چڑھا لیکن اسے کچھ دکھائی نہ دیا، پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھا (لیکن) وہاں بھی کچھ دکھائی نہ دیا، پھر واپس پہلے والی جگہ کی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اپنی لگام گھسیٹتے ہوئے چلی آرہی ہے (تو جتنا وہ شخص اپنی سواری ملنے پر خوش ہو) لیکن اتنا خوش نہ ہوگا جتنا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتے ہیں “۔ (مستدرک حاکم بروایت حضرت نعمان بن بشیر (رض) اور حضرت براء (رض))