10328 اتقوا المظالم ما استطعتم ، فان الرجل يجئ يوم القيامة بحسنات يرى أنها ستنجيه ، فما يزال عند ذلك يقول : إن لفلان قبلك مظلمة ، فيقال : أمحوا من حسناته ، فما تبقى له حسنة ، ومثل ذلك كمثل سفر نزلوا بفلاة من الارض ليس معهم حطب ، فتفرق القوم فاحتطبوا للنار وانضجوا ما أرادوا ، فكذكل الذنوب.
(الخرائطي في مساوي الاخلاق عن ابن مسعود).
10324 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جہاں تک ہوسکے مظالم سے بچو، کیونکہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کی نیکیاں اتنی ہوں گی کہ اسے نجات دلاسکیں، لیکن اس وقت یہ کہا جاتا رہے گا کہ تو نے فلاں ظلم کیا تھا پھر کہا جائے گا کہ اس کی نیکیوں سے مٹادو، (اس طرح) اس کی نیکیاں باقی نہ رہیں گی اور اس کی مثال ایسے سفر کی ہے جس میں مسافر ایک جنگل میں پہنچے جہاں اس کے پاس لکڑیاں نہ تھیں، چنانچہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے اور لکڑیاں چن چن کر لانے لگے اور آگ جلائی جیسا کہ وہ چاہتے تھے، گناہ بھی اسی طرح ہیں “۔ (خزائطی فی مساوی الاخلاق بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
فائدہ :۔۔۔ گناہوں سے مثال دینے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح آگ ہر چیز کو جلا کر راکھ کردیتی ہے، اسی طرح گناہ بھی ہر چیز کو جلا کر راکھ کردیتے ہیں “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)