hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 10347

.

كنز العمال

10347
Kanz al-Ummal
10347 كان رجلان في بني إسرائيل متواخيان ، وكان أحدهما يذنب ، والآخر يجتهد في العبادة ، وكان لا يزال المجتهد يرى الآخر على الذنب ، فيقول : أقصر ، فوجده يوما على ذنب ، فقال له : أقصر ، فقال : خلني وربي ، أبعثت علي رقيبا ؟ فقال : والله لا يغفر الله لك أو لا يدخلك الله الجنة ، فقبض روحهما ، فاجتمعا عند رب العالمين ، فقال لهذا المجتهد :أكنت بي عالما أو كنت على ما في يدي قادرا ؟ وقال للمنذب : اذهب فادخل الجنة برحمتي ، وقال للآخر : اذهبوا به إلى النار. (حم د عن أبي هريرة).
10343 ۔۔۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمیوں میں بہت بھائی چارہ تھا ان میں سے ایک گناہ کرتا تھا جبکہ دوسرا بہت عبادت گزار تھا اور خوب محنت سے عبادت کرتا تھا اور دوسرے کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا رہتا تھا اور کہتا کم کرو، اسی طرح اس نے ایک دن اس کو گناہ کرتے دیکھا تو کہا گناہوں کو کم کردو تو اس نے کہا مجھے اور میرے رب کو چھوڑدو کیا تو میرا نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ تو اس (عبادت گزار) نے کہا خدا کی قسم اللہ تعالیٰ تجھے معاف نہ کریں گے یا کہ کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل نہ کریں گے، پھر ان دونوں کا انتقال ہوگیا اور دونوں رب العالمین کے پاس پہنچے، تو اللہ تعالیٰ نے عبادت گزار سے فرمایا کہ تو مجھے جانتا تھا یا میرے پاس موجود چیز پر قادر تھا ؟ اور گناہ گار سے فرمایا چلو جاؤ میری رحمت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ اور عبادت گزار کے بارے میں فرمایا کہ اس کو دوزخ میں ڈال دو “۔
فائدہ :۔۔۔ چونکہ عبادت گزار اللہ کی رحمت سے مایوسی کی باتیں کررہا تھا جبکہ مایوسی تو گناہ ہے اور پھر اللہ کی رحمت سے مایوسی اور بھی بڑا گناہ ہے اور دوسروں کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا اس سے بھی بڑا گناہ اور پھر اس میں دانستہ طور پر تکبر بھی شامل ہوجاتا ہے جو ام الامراض ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)