10377 كان عبد من عباد الله آتاه الله مالا وولدا ، فذهب من عمره عمر وبقي عمر ، فقال لبنيه : أي أب كنت لكم ؟ قالوا : خير أب ، قال : إني والله ما أنا بتارك عند أحد مالا كان مني إليه إلا أخذته أو تفعلون بي ما أقول لكم ، فأخذ منهم ميثاقا قال : أما الاول فانظروا إذا أنا مت فأحرقوني بالنار ، ثم اسحقوني ، ثم انظروا يوما ذا ريح فأذروني لعلي أضل الله ، فدعي واجتمع ، فقيل : ما حملك على ما صنعت ؟ قال : خشية عذابك ، قال : استقل ذاهبا فتيب عليه.
(حم والحكيم طب عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده).
10373 ۔۔۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو خوب مال واولاد دے رکھا تھا، جب اس کی عمر ختم ہوگئی اور تھوڑی سی باقی رہ گئی تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تمہارا باپ کیسا تھا ؟ انھوں نے کہا بہترین ! اس نے پھر کہا کہ تم میں سے جس کے پاس بھی میرا مال ہے میں بالکل نہ چھوڑوں گا سوائے اس صورت میں کہ وہ میرا کہا مانے، اور میرے ساتھ وہی معاملہ کرے جو میں کہوں، پھر ان سے وعدہ کرلیا، اور پھر کہا کہ سب سے پہلے تو یہ کہ دیکھو جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ سے جلادو پھر مجھے خوب پیسنا، پھر کوئی آندھی والا دن دیکھنا اور ایسے (آندھی والے) دن میں میری راکھ اڑا دینا، شاید اللہ تعالیٰ مجھے نہ پاسکے “۔ (یہ معاملہ ہونے کے بعد) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکارا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اچھا بھلا انسان بن کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوگیا، اس سے پوچھا گیا کہ تجھے اس حرکت پر کس نے ابھارا ! تو اس نے کہا کہ تیرے عذاب کے خوف نے، اس سے کہا گیا کہ اسی طرح رہو اور اس کی توبہ قبول کرلی گئی۔ (مسند احمد، حکیم، طبرانی بروایت بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ (رض))