hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 10422

.

كنز العمال

10422
Kanz al-Ummal
10422 قال ابن السمعاني في الذيل : أنا أبو بكر هبة بن الفرج : أنا أبو القاسم يوسف بن محمد بن يوسف الخطيب ، أنا أبو القاسم عبد الرحمن ابن عمرو بن تميم المؤدب : ثنا ابن علي بن إبراهيم بن علان : أنا علي بن محمد بن علي : ثنا أحمد بن الهيثم الطائي : حدثنا أبي عن أبيه عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق عن علي بن أبي طالب قال : قدم علينا أعرابي بعد ما دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام فرمى بنفسه على قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، وحثا من ترابه على رأسه ، وقال : يا رسول الله ، قلت فسمعنا قولك ، ووعيت عن الله فوعينا عنك ، وكان فيما أنزل الله عليك : (ولو أنهم إذ لموا أنفسهم جاؤك فاستغفروا والله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما) (1) وقد ظلمت نفسي وجئتك تستغفر لي ، فنودي من القبر أنه قد غفر لك (2) قال في المغنى : الهيثم بن عدي الطائي متروك.
10418 ۔۔۔ ابن السمعانی اپنی سند سے حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) نے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے تین دن بعد ایک اعرابی آیا اور جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک سے چمٹ گیا اور اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تو ہم نے آپ کا فرمان سنا، آپ نے اللہ تعالیٰ سے بیان فرمایا اور ہم نے آپ سے بیان کیا، جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی تھیں ان میں یہ بھی ہے کہ ” اگر وہ اپنی جان پر ظلم کرنے کے بعد آپ کے پاس آئیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اللہ کا رسول بھی ان کے لیے اللہ سے معافی مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول کرنے والا اور بہت مہربان رحم کرنے والا پائیں گے “۔ (سورة النساء آیت 63) ” اور میں نے تو اپنی جان پر ظلم کرلیا ہے اور آپ کے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں گے، تو قبر کے اندر سے پکار کر کہا گیا کہ تجھے معاف کردیا گیا “۔