10428 عن أنس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : التائب من الذنب كمن لا ذنب له ، وإذا أحب الله عبدا لم يضره ذنب ثم تلا : (إن الله يحب التوابين ويحب المتطهرين) قيل : يا رسول الله وما علامته ؟ قال : الندامة.
(ابن النجار).
10424 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ ” گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہی نہ ہو، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند کرنے لگتے ہیں تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ” کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے “۔ (سورة البقرۃ آیت 222)
کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی علامت کیا ہے ؟ فرمایا ندامت “۔ (ابن النجار)
فائدہ :۔۔۔ گناہوں سے نقصان نہ پہنچنے سے مرادیہ ہے کہ اول تو اس سے گناہ سرزد ہی نہ ہوں گے اور اگر ہو بھی گئے تو اللہ تعالیٰ اس کو فوراً ہی ان پر تنبیہ فرمادیں گے اور توبہ کی توفیق عطا فرمائیں گے اور ظاہر ہے توبہ کے بعد گناہ معاف ہوجائیں گے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)