10444 عن عقبة بن عامر أن رجلا قال : يا رسول الله أحدنا يذنب ؟ قال : يكتب عليه ، قال : ثم يستغفر منه ويتوب ، قال : يغفر الله له ، ويتاب عليه ، قال : فيعود فيذنب ؟ قال : يكتب عليه ، قال : ثم يستغفر منه ويتوب ، قال : يغفر له ويتاب عليه ، ولا يمل الله حتى تملوا.
(طب ك).
10440 ۔۔۔ حضرت عقبۃ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم میں سے کسی سے گناہ ہوجاتا ہے، فرمایا کہ لکھ لیا جاتا ہے پھر عرض کیا کہ پھر وہ معافی مانگ لیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتے ہیں اور اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں، پھر عرض کیا، کہ اس سے دوبارہ گناہ ہوجاتا ہے، فرمایا لکھ لیا جاتا ہے پھر عرض کیا کہ وہ پھر معافی مانگ لیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیتے ہیں اور اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک توبہ قبول کرتے رہتے ہیں جب تک تم نہ تھک جاؤ “۔ (طبرانی، مستدرک حاکم)
فائدہ :۔۔۔ تھکنے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے تو یہ ممکن ہے کہ وہ بار بار گناہ کرنے اور توبہ کرنے سے تنگ آجائے اور تھک ہار
کر مایوس ہو بیٹھے اور یہ سوچنے لگے کہ آخر کب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کریں گے “ اور اسی خیال سے آئندہ توبہ نہ کرے، جبکہ اللہ تعالیٰ توتھکاوٹ وغیرہ عیوب سے پاک ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف کرنے سے نہیں تھکتے، ہاں البتہ جب کوئی توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول نہیں فرماتے، کیونکہ جب تک توبہ ہی نہیں تو قبولیت کیسی، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو توبہ نہ کرے گا اس کی مغفرت نہیں، نہیں بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمادیں گے انشاء اللہ تعالیٰ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)