10536 انتدب الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلي أن أرجعه بما نال من أجر أو غنيمة ، أو أدخله الجنة ، ولو لا أن أشق على أمتي ما قعدت خلف سرية ، ولوددت أني أقتل في سبيل الله ، ثم أحيا ، ثم أقتل ، ثم أحيا ، ثم أقتل ، ثم أحيا ، ثم أقتل.(حم ق ن عن أبي هريرة).
10532 ۔۔۔ فرمایا ” جو شخص اللہ کے راستے میں نکلتا ہے اسے اللہ پکارتا ہے کہ اسے مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں پر تصدیق نے نکالا ہے۔ مجھ پر اس کا حق ہے کہ میں اسے اس کے اجر اور ساتھ لائی ہوئی غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا دوں یا اسے جنت میں داخل کروں “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر میری امت کے لیے مشکل نہ ہوتا تو میں کسی سریے (وہ جنگ جس میں آپ خود شریک نہ ہوتے تھے) سے پیچھے نہ رہوں حالانکہ میری خواہش ہے کہ مجھے اللہ کے راستے جہاد (میں شہید ) کیا جائے پھر زندہ کیا جائے پھر شہید کیا جائے۔ تین مرتبہ فرمایا۔ (مسند احمد متفق علیہ نسائی عن ابوہریرہ (رض))