10773 من غزا البحر في سبيل الله كان له فيما بين الموجتين كمن قطع الدنيا في طاعة عزوجل.(أبو الشيخ عن أبي هريرة).
10769 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس نے اللہ کی رضا کے لیے سمندر میں جنگ لڑی تو اس کے لیے وہ ہوگا جو دو موجوں کے درمیان ہوتا ہے جیسے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کے لیے دنیا سے کٹ گیا ہو “۔ (ابوالشیخ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض) )
فائدہ :۔۔۔ دنیا سے کٹ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک سے بالکل قطع تعلق کر کے تنہائی میں عبادات وغیرہ میں مصروف ہوجائے بلکہ مراد یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا اور دین کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمان برداری کا اتنا خیال رکھے کہ گویا کہ اسے اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اور دوموجوں کے درمیان سے مراد دو موجوں کے درمیان پانی کے قطروں کی تعداد کے مطابق نیکیاں ملنا ہوسکتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)