10783 ستفتح عليكم الامصار ، وستكون جنود مجندة ، يقطع عليكم فيها بعثو ، فيكره الرجل منكم البعث ، فيتخلص من قومه ، ثم يتصفح القبائل يعرض نفسه عليهم ، يقول : من أكفه بعث كذا ؟ من أكفه بعث كذا ؟ أذا وذلك الاجير إلى آخر قطرة من دمه.(حم د هق عن أبي يوب).
10779 ۔۔۔ فرمایا کہ ” عنقریب تم پر شہر فتح ہوتے چلے جائیں گے اور عنقریب تم زبردست لشکر جرار بن جاؤگے، پھر تمہارے اس معرکے میں مختلف دستے بنائے جائیں گے سو تم میں سے ایک شخص ایک دستے سے ناپسندیدگی کا اظہار کرے گا اور اپنی قوم میں رہے گا پھر باقی قبیلوں سے الگ ہوجائے گا اور خود کو ان کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا کہ کون ہے وہ جس کے لیے میں اس وفد کے بدلے کافی ہوجاؤں ؟ کون ہے وہ جس کے لیے میں اس وفد سے کافی ہوجاؤں ؟ سنو ! یہ وہ شخص ہے جو اپنے خون کے آخری قطرے تک کو کرائے پردے رہاہو “۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابوایوب (رض))