1081 – "خذوا العطاء ما دام عطاء فإذا كان إنما هو رشا فاتركوه ولا أراكم تفعلون يحملكم على ذلك الفقر والحاجة ألا وإن رحى بني مرج قد دارت وإن رحا الإسلام دائرة وإن الكتاب والسلطان سيفترقان فدوروا مع الكتاب حيث دار وستكون عليكم أئمة إن أطعتموهم أضلوكم وإن عصيتموهم قتلوكم قالوا فكيف نصنع يا رسول الله قال كونوا كأصحاب عيسى نصبوا على الخشب ونشروا بالمناشير موت في طاعة خير من حياة في معصية". (ابن عساكر عن ابن مسعود) .
١٠٨١۔۔ عطایاوصول کرتے رہو (جب تک کہ وہ عطایار ہیں گے) مگر جب وہ رشوت بن جائیں توترک کردو۔ اور میں تم کونہ پاؤں کہ فقر وفاقہ تم کو ان کے وصول کرنے پر مجبور کردے خبردار بنی مرجیہ کی چکی چل پڑی ہے۔ اور اسلام کی چکی بھی چل رہی ہے۔ اور یاد رکھو کتاب اور امام عنقریب جدا جد ا ہوجائیں گے سو تم کتاب اللہ کے ساتھ ہولینا۔ جہاں بھی وہ جائے عنقریب تم پر ایسے حاکم مسلط ہوں گے اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تم کو گمراہ کر ڈالیں گے ۔ اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تم کو تہ تیغ کر ڈالیں گے صحابہ کرام نے استفسار کیا یارسول اللہ پھر ہم کیا کریں ؟ فرمایا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے اصحاب نے کیا، وہ آریوں سے چیر دیے گئے اور سولیوں پر لٹکائے گئے اور جان رکھو اللہ کی اطاعت میں مرجانا، اللہ کی معصیت میں زندگی گزارنے سے بدرجہا بہتر ہے۔ ابن عساکر، بروایت ابن مسعود۔