hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 10822

.

كنز العمال

10822
Kanz al-Ummal
10822 لا جلب ولا جنب ، ولا شغار في الاسلام ، ومن انتهب نهبة فليس منا.(حم ت ه عن عمران بن حصين).
10818 ۔۔۔ اسلام میں جلب اور جنب اور نکاح شغار جائز نہیں اور جس نے نقب لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ بروایت حضرت عمران بن حصین (رض) )
فائدہ :۔۔۔ شغار نکاح کی ایک قسم ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور دوسرا شخص اس پہلے والے کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور دونوں اپنی اپنی بیویوں (یعنی ایک دوسرے کی بیٹی) کے مہر کے طور پر اپنی بیٹی دوسرے کے نکاح میں دیتا ہے یعنی الف بےکی بیٹی سے اس شرط پر نکاح کرتا ہے کہ حق مہر کے طور پر اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے گا اور ب نے بھی الف کے نکاح میں جو بیٹی دی ہے وہ الف کی بیٹی کے نکاح کے حق مہر کے طور پر ہے، اس کو شغار کہتے ہیں اور یہ حنفیہ کے ہاں جائز ہے جبکہ ائمہ ثلاثہ اس کو ظاہر نص پر عمل کرتے ہوئے ناجائز ٹھہراتے ہیں، تفصیل کے لیے کسی مستند مفتی یا مستند دارالافتاء سے رجوع کیا جاسکتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)