hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 110

.

كنز العمال

110
Kanz al-Ummal
110 – "يصاح برجل من أمتي يوم القيامة على رؤوس الخلائق فينشر له تسعة وتسعون سجلا كل سجل مد البصر ثم يقول الله تبارك وتعالى هل تنكر من هذا شيئا فيقول لا يا رب فيقول أظلمك كتبتي الحافظون فيقول لا يا رب ثم يقول ألك عذر ألك حسنة فيهاب الرجل فيقول لا فيقول بلى إن لك عندنا حسنة وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج له بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات فيقول إنك لا تظلم فتوضع السجلات في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة " (خ ك عن ابن عمرو) .
١١٠۔۔ قیامت کے روز میری امت کے ایک فرد کو بلایا جائے گا، پھر اس کے اعمال ناموں کے ننانوے دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے ہر دفتر انتہا نظر تک پھیلاہوگا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تو ان میں سے کسی کا انکار کرتا ہے تو وہ کہے گا نہیں پر اللہ اس سے فرمائیں گے شاید نامہ اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کردیاہو، وہ عرض کرے گا نہیں، پھر اللہ اس سے فرمائیں کیا تیرے پاس کوئی ان کا عذر ہے یا تیرے پاس کوئی نیکی ہے آدمی خوفزدہ ہو کر عرض کرے گا نہیں، پھر اللہ اس سے فرمائیں گے لیکن ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے اور آج کے دن پر تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر ایک کاغذ کا ٹکڑا لایا جائے گا جس میں جس میں اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ وردولہ، درج ہوگا، اللہ فرمائیں گے جا اس کو وزن کرالے۔ بندہ عرض کرے گا پروردگار اتنے عظیم دفتروں کے مقابلے میں یہ اتنا سا پرزہ کیا کرے گا ؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن پر تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا، اور پھر تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں اور اس کاغذ کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا، اور کاغذ والاپلڑا اس قدر وزنی ہوگا کہ وہ تمام دفتر اڑتے پھریں گے بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہے۔ بخاری، المستدرک للحاکم، بروایت ابن عمرو۔