11105 الشهداء أربعة : رجل مؤمن جيد الايمان لقي العدو فصدق الله حتى قتل ، فذلك الذي يرفع الناس إليه أعينهم يوم القيامة هكذا ، ورجل مؤمن جيد الايمان لقي العدو كأنما ضرب جلده بشوك طلح من الجبن ، أتاه سهم غرب ، فقتله فهو في الدرجة الثانية ، ورجل مؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا لقي العدو فصدق الله حتى قتل ، فذلك في الدرجة الثالثة ، ورجل مؤمن أشرف على نفسه لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذاك في الدرجة الرابعة.(حم ت عن عمر).
11101 ۔۔۔ فرمایا کہ ” شہید تو چار ہیں۔
(1) ۔۔۔ وہ مومن شخص جس کا ایمان بہت اچھا ہو اور اللہ سچائی بیان کرلے یہاں تک قتل ہوجائے سو یہی وہ ہے جس کی طرف لوگ قیامت کے دن ایسے آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے “
(2) ۔۔۔ اور وہ مومن شخص جس کا ایمان اچھا تھا وہ دشمن سے ایسے ایسے ملا جیسے اس کی جلد پر کیکر کا کانٹا چبھو دیا گیا ہو بزدلی سے کہ اچانک ایک تیرنامعلوم سمت سے آیا اور اس کو قتل کردیا تو یہ دوسرے درجے میں ہے۔
(3) ۔۔۔ وہ مومن شخص جس نے اچھے اور برے دونوں اعمال کئے ہیں اور دشمن سے ملا اور اللہ کو سچا جانا یہاں تک کہ یہ قتل ہوگیا تو یہ تیسرے درجے میں ہے۔
(4) ۔۔۔ اور وہ مومن شخص جو اپنے نفس سے آگاہ ہوا، دشمن کا سامنا اور اللہ تعالیٰ کو سچا جانا یہاں تک کہ قتل کردیا گیا تو یہ چوتھے درجے میں ہے “۔ (مسند احمد، ترمذی بروایت حضرت عمر (رض))