hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11127

.

كنز العمال

11127
Kanz al-Ummal
11127 إن أرواح الشهداء في جوف طير خضر ، لها قناديل ملقة بالعرش تسرح من الجنة حيث شاءت ، ثم تأوى إلى تلك القناديل فاطلع إليهم ربهم اطلاعة ، فقال : هل تشتهون شيئا ؟ قالوا : أي شئ نشتهى ونحن نسرح من الجنة حيث شئنا ؟ فيفعل ذلك بهم ثلاث مرات فلما رأوا أنهم لن يتركوا من أن يسألوا قالوا : يا رب نريد أن ترد أرواحنا في أجسادنا حتى ترجع إلى الدنيا فنقتل في سبيل مرة أخرى ، فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا. (م ت عن ابن مسعود)
11123 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کچھ شک نہیں کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہے ان کے لیے عرش کے ساتھ قندلیں لٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔ اڑتے پھرتے جنت میں جہاں چاہتے ہیں اور پھر اپنی قندیلوں میں آ بیٹھتے ہیں، پھر ان کا رب ان کی طرف توجہ فرماتا ہے اور دریافت فرماتا ہے کہ کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ وہ کہتے ہیں ہمیں کس چیز کی خواہش ہوگی جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے پھرتے ہیں ؟ ان سے تین مرتبہ اس طرح پوچھا جاتا ہے اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے یہ سوال ہوتا رہے گا تو وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم دنیا کی طرف لوٹ جائیں اور تیرے راستے میں ایک بار پھر قتل کردئیے جائیں، اور جب رب دیکھتا ہے کہ ان کو کسی چیز کی ضرورت نہیں تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے “۔ (مسلم، ترمذی بروایت حضرت ابن مسعود (رض))