11163 يا جابر أبشر بخير إن الله تعالى أحيا أباك فأقعده بين يديه فقال : تمن علي عبدي ما شئت أعطكه ، قال : يا ربما عبدتك حق عبادتك أتمنى عليك أن تردني إلى الدنيا فأقاتل مع نبيك فأقتل فيك مرة ، قال : إنه قد سلف مني أنك إليها لا ترجع.(حل عن عائشة).
11159 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اے جابر ! میں تمہیں بھلائی کی خوشخبری دیتا ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا کہ میرے سامنے تمنا کرو جو تم چاہو گے وہ میں تمہیں دوں گا تو انھوں نے عرض کیا ! اے میرے رب میں آپ کی اس طرح عبادت نہیں کرسکا جس طرح اس کا حق تھا، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے دنیا کی طرف واپس بھیج دیجئے میں آپ کے نبی کے ساتھ مل کر آپ کے راستے میں ایک بار پھر قتال کروں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں یہ پہلے ہی طے کرچکا کہ تو واپس (دنیا) کی طرف نہ جائے گا “۔ (حلیہ ابی نعیم بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض))