11309 أما بعد ذلك فانه قد وقع بنا رسولكم مقفلنا من أرض الروم بالمدينة فبلغ ما أرسلتهم به وخبر عما كان قبلكم وأنبأنا باسلامكم وقتلكم المشركين ، فان الله قد هداكم بهداه ، إن أصلحتم وأطعتم الله ورسوله وأقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة وأعطيتم من المغنم خمس الله وسهم النبي وصفيه وما كتب على المؤمنين من الصدقة.
(ابن سعد عن شهاب ابن عبد الله الخولاني عن رجل من حمير وفد على رسول الله صلى الله عليه وسلم موضع فسطاط المسلمين في الملاحم أرض يقال لها الغوطة) (د في مراسيله كر عن مكحول) مرسلا.
11305 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اما بعد ! سرزمین روم سے مدینہ کی طرف واپس لوٹتے ہوئے تمہارا نمائندہ ہم تک پہنچا اور وہ چیز پہنچائی جو تم نے اسے دے کر بھیجا تھا اور تمہارے بارے میں اطلاع دی اور ہمیں تمہارے اسلام اور مشرکوں کو قتل کرنے کے بارے میں بتایا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت سے نوازا اگر تم نے اصلاح کی، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ، نماز قائم کی زکوۃ ادا کی اور مال غنیمت میں سے اللہ کا خمس اور اس کے نبی اور صفی کا حصہ نکالا اور وہ صدقہ بھی نکالو جس کی ادائیگی مومنین پر ضروری ہے “۔ (ابن سعید بروایت شھاب بن عبداللہ الخولانی عن رجل) یہ روایت اس شخص سے ہے جو فساط میں غوطہ نامی جگہ پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا اور حمیر والوں کا پیغام پہنچایا تو جواب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ تحریر لکھوائی۔ علاوہ ازیں دیکھیں مراسیل ابو داؤد۔