hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11322

.

كنز العمال

11322
Kanz al-Ummal
11322 عن عمر قال : كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده قبض من الناس فأتاه رجل فقال : يا رسول الله أي الناس خير منزلة عند الله يوم القيامة بعد أنبيائه وأصفيائه ؟ فقال : المجاهد في سبيل الله بنفسه وماله حتى تأتيه دعوة الله وهو على متن فرسه آخذ بعنانه ، قال : ثم من ، قال : وامرؤ بناحية أحسن عبادة ربه وترك الناس من شره ، قال : يا رسول الله فأي الناس شر منزلة عند الله يوم القيامة ؟ قال : المشرك ، قال : ثم من ؟ قال : والامام الجائر يجود عن الحل وقد مكن وخص رسول الله صلى الله عليه وسلم أبواب الفتن ، فقال : سلوني ولا تسألوني عن شئ إلا أنبأتكم به ، فقلت رضينا بالله ربنا وبالاسلام دينا وبك نبيا وحسنا ما أتانا فسري عنه. (ط).
11318 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا اور تھوڑے سے لوگ بھی وہاں موجود تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء کرام اور اصفیاء کے بعد سب سے زیادہ بلند رتبہ انسان کون ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا بلاوا اس تک آپہنچے اور وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر لگام تھامے پیٹھا ہو، اس نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کس کا درجہ ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ شخص جو ایک کونے میں ہو خوب اچھے طریقے سے اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے۔
اس نے پھر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! قامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سب سے زیادہ بدترین شخص ہوگا ؟ فرمایا کہ مشرک ، اس نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد ؟ تو فرمایا کہ ظالم حکمران جو حلال جائز جگہوں پر ظلم کرتا ہے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص کردیے اور بتادیئے ہیں فتنوں کے موقع پر فرمایا کہ پوچھو مجھ سے (جوچاہو) اور کسی چیز کے بارے میں اس وقت تک نہ پوچھو جب تک میں خود نہ بتادوں ، تو میں نے کہا کہ ہم راضی ہوگئے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اسلام کو بحیثیت دین مان کر اور آپ کو نبی ماننے پر اور کافی ہے ہمارے لیے جو آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غصے کے اثرات زائل ہوگئے “۔