11333 عن صالح أبي الخليل قال : سمع عمر إنسانا يقرأ هذه الآية : (وإذا قيل له اتق اله أخذته العزة بالاثم) إلى قوله (ومن الناس من يشري نفسه ابتغاء مرضات الله) فاسترجع ، ثم قال : قام الرجل يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر فقتل.
(وكيع وعبد بن حميد وابن جرير).
11329 ۔۔۔ حضرت صالح بن ابی الخلیل سے مرویہ ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو سنا جو اس آیت کی تلاوت کررہا تھا : واذاقیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم۔ الی قولہ ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ
ترجمہ :۔۔۔ اور جب کہا جائے اس کو اللہ سے ڈرو تو برائی اس کو گناہ پر ابھارتی ہے، اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں اپنی جان تک صرف کر ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں “۔ (سورة بقرۃ آیت 206، 206)
یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر فرمایا کہ ایک شخص کھڑا ہوا، نیکی کا حکم دیا برائی سے منع کیا اور قتل کردیا گیا۔ (وکیع ، عبد بن حمید وابن جریر)