11347 عن ابن عمر قال : الناس في الغزو جزآن : فجزء خرجوا يكثرون ذكر الله والتذكر به ويجتنبون الفساد في السير ، ويواسون الصاحب ، وينفقون كرائم أموالهم فهم أشد اغتباطا بما أنفقوا من أموالهم منهم بما استفادوا من دنياهم ، فإذا كانوا في مواطن القتال استحيوا من الله في تلك المواطن أن يطلع على ريبة في قلوبهم أو خذلان للمسلمين فإذا قدروا على الغلو طهروا منه قلوبهم وأعمالهم ، فلم يستطع الشيطان أن يفتنهم ، ولا يكلم قلوبهم ، فبهم يعز الله دينه ، ويكبت عدوه ، وأما الجزء الآخر فخرجوا فلم يكثروا ذكر الله ولا التذكر به ولم يجتنبوا الفساد ، ولم ينفقوا أموالهم إلا وهم كارهون ، وما أنفقوا من أموالهم رأوه مغرما وحدثهم به الشيطان ، فإذا كانوا عند مواطن القتال كانوا مع الآخر الآخر ، والخاذل الخاذل ، واعتصموا برؤس الجبال ينظرون ما يصنع الناس ، فإذا فتح الله للمسلمين كانوا أشدهم تخاطبا بالكذب ، فإذا قدروا على الغلول اجتروا فيه على الله ، وحدثهم الشيطان أنها غنيمة ، وإن أصابهم رخاء بطروا ، وإن أصابهم حبس فتنهم الشيطان بالعرض فليس لهم من أجر المؤمنين شء ، غير أن أجسادهم مع أجسادهم ومسيرهم مع مسيره ، ونياتهم وأعمالهم شتى حتى يجمعهم الله يوم القيامة ثم يفرق بينهم.
(كر).
11343 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جنگ میں لوگوں کی دوقسمیں ہیں سو ایک گروہ (قسم) تو وہ ہے جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اور اس کو یاد کرتے ہوئے نکلے ، اور چلنے میں فساد سے بچے اور ساتھی کے ساتھ آہستہ گفتگو کرتے ہیں اور اپنا بہترین مال خرچ کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن سے ان کے اس مال کی بدولت جس سے وہ دنیا میں استفادہ کرتے ہیں زبردست غبطہ کیا جاسکتا ہے اور جب وہ قتل و قتال کی جگہوں میں ہوتے ہیں تو حیاء کرتے ہیں ان جگہوں میں اللہ تعالیٰ سے اس بات پر کہ کہیں وہ ان کے دلوں کے شک پر مطلع نہ ہوجائے یا مسلمانوں کی ناکامی کے خیالات پر آگاہ ہوجائے (یعنی وہ اسی طرح کی باتیں سوچتے ہی نہیں بلکہ پرہیز کرتے ہیں۔ (مترجم)
اور جب وہ مال غنیمت پر قادر ہوتے ہیں تو اس سے اپنے دل اور اعمال کو پاک کرلیتے ہیں سو شیطان طاقت نہیں رکھتا کہ ان کو فتنے میں مبتلا کرسکے اور نہ ان کے دلوں سے بول سکتا ہے سو انہی سے اللہ تعالیٰ اپنے دین کو عزت دیتا ہے اور اپنے دشمن کو ذلیل کردیتا ہے۔
رہا دوسرا گروہ سو وہ اس طرح نکلے کہ نہ تو انھوں نے اللہ کا ذکر کثرت سے کیا نہ اس کو یاد کیا اور نہ فساد سے کنارہ کشی کی اور انھوں نے بادل نخواستہ ہی اپنا خرچ کیا اور جو کچھ بھی انھوں نے اپنے مال میں سے خرچ کیا اس کو بوجھ اور تاوان سمجھا اور شیطان نے ان سے گفتگو کی، اور جب وہ قتال کی جگہوں پر پہنچے تو آخری آخری اور ناکام ناکام لوگوں میں تھے اور انھوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ حاصل کی اور دیکھتے رہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں اور جب اللہ غنیمت پر قادر ہوئے تو اس میں اللہ پر جرات کی اور شیطان نے ان کو یہ سمجھایا کہ یہ غنیمت ہے اور ان کو کچھ سہولت ملی تو اکڑنے لگے اور انھیں تنگی ہوئی تو شیطان نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا پیش کر کرکے، سو ان کے لیے مومنین کے اجر میں سے کوئی چیز نہیں علاوہ اس کے کہ ان کے جسم ان کے جسموں کے ساتھ ہوں کے اور ان کا چلنا ان کے چلنے کے ساتھ ہوگا، اور ان کی نیتیں اور اعمال بکھرے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن جمع فرمائیں گے اور پھر ان کو جدا کردیا جائے گا۔