11357 عن أم حرام قالت : أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : أين أبو الوليد ؟ فقلت الساعة يأتيك ، فألقيت له وسادة فجلس عليها فضحك ، فقلت ما اضحكك يا رسول الله ؟ قال رأيت أول جيش من أمتي يركبون البحر قد أوجبوا ، فقلت يا رسول الله أدع الله لي أن أكون منهم ، فقال : اللهم اجعلنا منهم ، ثم ضحك ، فقلت ما الذي أضحكك ؟ قال : أول جيش من أمتي يرابطون مدينة قيصر مغفور لهم.
(كر).
11353 ۔۔۔ حضرت ام حرام (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ ابوالولید کہا ہیں ؟ تو میں نے عرض کیا کہ ابھی آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوں گے ، پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تکیہ رکھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر تشریف فرما ہوئے اور ہنسے ، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنسے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کہ میں نے اپنی امت کا پہلا لشکر دیکھا، جو سمندر میں سوار ہیں اور انھوں نے اپنے لیے جنت واجب کردی ، میں نے عرض کیا کہ رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنادے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے میرے اللہ آپ اس کو انہی میں سے بنادیجئے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے ، پھر میں نے عرض کیا آپ کس بات پر ہنسے ؟ فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر کا محاصرہ کئے ہوئے ہے اور اس کی مغفرت ہوگئی “۔