11360 عن عائشة قالت : خرجت فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح بردائه عن ظهر فرسه ، فقلت : بأبي وأمي يا رسول الله أبثوبك تمسح عن فرسك ؟ قال : نعم يا عائشة ، وما يدريك لعل ربي أمرني بذلك ؟ مع أني لقريب ، وإن الملائكة لتعاتبني في حس الخيل ومسحها ، فقلت له : يا نبي الله فولنيه فأكون أنا التي ألي القيام عليه ، فقال : لا أفعل لقد أخبرني خليلي جبريل أن ربي يكتب لي بكل حبة أوافيه بها حسنة ، وأن ربي يحط عني بكل حبة سيئت ، ما من امرئ م ن المسلمين يربط فرسا في سبيل الله إلا يكتب له بكل حبة يوافيه بها حسنة ويحط عنه بكل حبة سيئة.
(كر) وسنده لا بأس به.
11356 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ایک مرتبہ نکلی تو دیکھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مبارک چادر سے اپنے گھوڑے کی پشت کو صاف فرما رہے ہیں، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! کیا آپ اپنے کپڑوں سے اپنے گھوڑے کو صاف فرما رہے ہیں ؟ فرمایا کہ ہاں اے عائشہ ! تمہیں کیا معلوم شاید یہ حکم مجھے میرے رب نے دیا ہو ؟ باوجود اس کے کہ میں قرب رکھتا ہوں “ اور بیشک فرشتے مجھ سے ناراض ہوتے ہیں گھوڑے کو چھونے اور صاف کرنے پر، تو میں نے عرض کیا کہ، اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے مقرر فرمایئے کہ آپ کا یہ کام میں کردوں، تو فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، تحقیق مجھے میرے دوست جبرائیل نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے ہر دانے کے بدلے جو میں اس کو دوں گا ایک نیکی لکھیں گے اور میرا رب ہر دانے کے بدلے کے بدلے مجھ سے ایک برائی دور فرمائیں گے، ہر مسلمان جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑا باندھا تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے جو وہ اس کو دے گا نیکی لکھیں گے اور ہر دانے کے بدلے ایک برائی دور فرمادیں گے “۔