11383 (مسند أبي بكر رضي الله عنه) قال المدائني : إن أبا بكر الصديق أوصى يزيد بن أبي سفيان حين وجهه إلى الشام ، فقال : سر على بركة الله فإذا دخلت بلاد العدو فكن بعيدا من الحملة ، فاني لا آمن عليك الجولة ، واستظهر في الزاد ، وسر بالآدلاء ، ولا تقاتل بمجروح ، فان بعضه ليس معه ، واحترس من البيات ، فان في العرب غرة ، وأقلل من الكلام ، فانما لك ما وعي عنك ، فإذا أتاك كتابي فانفذه
فانما أعمل على حسب انفاذه ، وإذا قدمت وفود العجم فانزلهم معظم عسكرك ، واسبغ عليهم النفقة ، وامنع الناس من محادثتهم ليخرجوا جاهلين ولا تلجن في عقوبة ، ولا تسرعن إليها ، وأنت تكتفي بغيرها ، وأقبل من الناس علانيتهم ، وكلهم إلى الله في سرائرهم ، ولا تجسس عسكرك فتفضحه ، ولا تهمله فتفسده ، واستودعك الله الذي لا يضيع ودائعه.
(الدينوري).
11379 ۔۔۔ مسند ابی بکر (رض) سے مروی ہے مدائنی فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی دفیان کو شام کی طرف بھیجا تو وصیت کی اور فرمایا کہ چلو اللہ کی برکت کے ساتھ سو جب دشمن کے شہر میں داخل ہوجاؤ تو حملے سے دور رہو، کیونکہ میں تمہارے بارے میں حملے سے بےخوف نہیں ہوں، زادراہ میں احتیاط کرو، وقار کے ساتھ چلو، کسی زخمی سے قتال نہ کر تو کیونکہ اس کا بعض اس کے ساتھ نہیں ہوتا۔ شب خون سے بچنے کے لیے پہرے دار کا اہتمام کرو کیونکہ عرب میں دھوکے بازی ہے ، باتیں بہت کم کرو کیونکہ تیرے لیے وہی ہے جو تجھ ست محفوظ رکھا جائے اور جب تیرے پاس میرا مکتوب تو اس کو نافذ کردے کیونکہ میں اس کے نفاذ کے مطابق ہی عمل کرتا ہوں ، اور جب عجمیوں کے وفود آئیں تو ان کو لشکر کے بڑے حصے میں ٹھہراؤ اور ان کو نفقہ دو ، اور لوگوں کو ان سے گفتگو سے منع کردو، تاکہ جاہل نکل جائیں ، اور سزا دینے میں جلدی نہ کرو اور جلدی ان کی طرف مت بڑھو اس کے علاوہ آپ کافی ہیں اور اعلانیہ لوگوں کے سامنے آ، اور تنہائی میں ان کو اللہ کے حوالے کردے اور لشکر میں تجسس سے کام نہ لے تو اس کو شرمندہ کردے گا اور نہ اس کو مہلت دے ورنہ اس کو خراب کردے گا اور میں تجھے اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں جو اپنی حفاظت میں موجودچیزوں کو ضائع نہیں کرتا “۔ (دینوری)