11406 (مسند الصديق رضي الله عنه) عن يحيى بن سعيد أن أبا بكر الصديق بعث الجيوش إلى الشام ، وبعث يزيد بن أبي سفيان أميرا فقال له وهو يمشي : إما أن تركب ، وإما أن أنزل ، قال أبو بكر : ما أنا براكب ، وما أنت بنازل ، إني احتسب خطاي هذه في سبيل الله ، إنك ستجد قوما زعموا أنهم حبسوا أنفسهم في الصوامع فدعهم وما زعموا ، وستجد قوما قد فحصوا عن أوساط رؤسهم من الشعر ، وتركوا منها أمثال العصائب ، فاضربوا ما فحصوا عنها بالسيف ، وإني موصيك بعشر : لا تقتلن امرأة ولا صبيا ، ولا كبيرا هرما ، ولا تقطعن شجرا مثمرا ، ولا نخلا ولا تحرقها ، ولا تخربن عامرا ولا تعقرن شاة ولا بقرة إلا لمأكلة ، ولا تجبنن ، ولا تغلل.
(مالك عب ش هق)
11402 ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی مسند سے یحییٰ بن سعید روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابوبکر (رض)
نے شام کی طرف لشکر بھیجا اور یزید بن ابی سفیان کو اس کا امیر بنایا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، یزید بن ابی سفیان نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے عرض کیا کہ یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں اتر جاؤں ، فرمایا نہ ہی میں سوار ہونے والا ہوں اور نہ تم اترنے والے ہو میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں گن رہا ہوں، عن قریب تم ایک ایسی قوم سے ملنے والے ہو جن کا یہ خیال ہے کہ انھوں نے خود کو گرجوں میں بند کر رکھا ہے سو ان کو اور ان کے خیالات کو وہیں رہنے دو ، اور عنقریب تم ایک ایسی سے ملو گے جنہوں نے اپنے سروں کے بیچ میں سے بالوں کو کھود رکھا ہے اور ان میں سے پیٹیوں کی طرح کچھ باقی چھوڑا رکھا ہے سو ماروان کے ان حصوں کو تلواروں سے، اور میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں کسی عورت کو قتل نہ کرنا ورنہ کسی بچے کو اور نہ ہی کسی بوڑھے کھوسٹ کو ، اور کسی پھل دار درخت کو بھی نہ کاٹنا اور نہ کسی کھجور کے درخت کو اور نہ جلانا، اور نہ کسی آبادی کو تباہ کرنا، اور نہ کسی گائے بکری وغیرہ کو کھانے کے علاوہ مارنا، اور نہ بزدلی کا مظاہرہ کرنا اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا “۔ (مالک ، عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن کبری بیھقی)