11412- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أسلم أن عمر بن الخطاب كتب إلى امراء الأجناد: أن لا تضربوا الجزية على النساء ولا على الصبيان وأن تضربوا الجزية على من جرت عليه الموسى من الرجال، وأن تحتموا في أعناقهم وتجزوا نواصيهم، من اتخذ منهم شعرا وتلزموهم المناطق يعني الزنانير، وتمنعوهم الركوب إلا على الأكف عرضا، ولا يركبوا كما يركب المسلمون. "عب وأبو عبيد في كتاب الأموال وابن زنجويه معا ش ق".
11408 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت اسلم روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے لشکروں کے امراء کو لکھا کہ عورتوں اور بچوں پر جزیہ مقرر نہ کرنا اور نہ مردوں میں ان پر جزیہ مقرر کرنا جو استرا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ان کی گردنوں کو نشان زدہ کردو اور ان کے آگے کے بالوں کو کاٹ دینا جنہوں نے بال رکھے ہوں اور زنانیر ان پر لازم قرار دینا اور ان کو سوار ہونے سے منع کردینا ہاں البتہ سوار ہوسکتے ہیں اور اس طرح سوار نہ ہوں جس طرح مسلمان سوار ہوتے ہیں “۔ یعنی اسکوٹر پر خواتین کے بیٹھنے کی طرح گھوڑوں پر وہ بیٹھ سکتے ہیں۔ (عبدالرزاق، ابوعبید فی کتاب الامثال ابن زنجویھی، مصنف ابن ابی شیبہ ، متفق علیہ)