11429- عن بريدة: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث أميرا إلى سرية أو جيش أوصاه فقال: إذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال فأيتهن أجابوك فكف عنهم، واقبل منهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، فإن أجابوك فاقبل منهم، فكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين، وأعلمهم أنهم إن فعلوا ذلك أن لهم ما للمهاجرين، وإن أبو واختاروا دارهم فأخبرهم أنهم يكونون كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب، إلا أن يجاهدوا مع المسلمين، فإن أبوا فادعهم إلى إعطاء الجزية، فإن أجابوا فاقبل منهم، وإن أبوا فاستعن بالله وقاتلهم. "ش".
11425 ۔۔۔ حضرت بریدۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی امیر کو کسی دستہ یا لشکر کی طرف روانہ فرماتے تو ان کو وصیت فرماتے اور فرماتے کہ جب اپنے مشرک دشمن سے ملوتو اسے تین میں سے ایک بات کی دعوت دو ، اگر وہ ان میں سے ایک بات کو بھی مان لیں تو اس سے ہاتھ روک لینا اور قبول کرلینا، انھیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ مان لیں تو قبول کرلیں اور ان سے ہاتھ روک لینا، پھر انھیں اپنا گھر بار چھوڑ کر مہاجرین کے علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دینا اور انھیں بتا دینا کہ اگر انھوں نے اس بات کو مان لیا تو ان کے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو مہاجرین کے لیے ہے اور اگر وہ انکار علاقوں میں ہی رہیں تو انھیں بتا دینا کہ وہ عرب مسلمانوں کی طرح ہوں گے ان پر بھی اللہ کا حکم اسی طرح نافذ ہوگا جس طرح اور مسلمانوں پر نافذ ہوتا ہے لیکن مال غنیمت اور مال فے میں سے ان کو اس وقت تک حصہ نہ ملے گا جب تک وہ مسلمانوں کاشانہ بشانہ جہاد نہ کرلیں ، اگر وہ انکار کریں تو ان کو جزیہ دینے کی طرف بلانا اگر وہ مان لیں تو قبول کرلیں اور اگر انکار کردیں تو اللہ سے مدد مانگنا اور ان سے قتال کرنا “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)