11446- عن أبي وائل قال: جاءنا كتاب عمر إذا حاصرتم قصرا فأرادوكم أن ينزلوا على حكم الله، فلا تنزلوهم، فإنكم لا تدرون ما حكم الله فيهم، ولكن أنزلوهم على حكمهم، ثم اقضوا فيهم ما أحببتم، وإذا قال الرجل للرجل: لا تخف فقد آمنه، وإذا قال: مترس فقد آمنه،فإن الله يعلم الألسنة. "ق".
11442 ۔۔۔ حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کا حکم مانہ ہم تک پہنچا جب تم نے قلعہ کا محاصرہ کرلیا تھا، پھر انھوں نے تم سے چاہا ان کو اللہ کے حکم پر امان دو ، ان کو امان نہ دینا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے لیکن ان کو اپنی ذمہ داری پر امان دو ، پھر ان کے بارے میں وہ فیصلہ کرو جو تمہیں اچھا لگے، اور جب ایک شخص کسی دوسرے شخص سے کہدے کہ خوفزدہ مت ہونا تو تحقیق اس نے امان دے دی اس کو اور اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا کہ مترس تو تحقیق اس نے بھی اس کو امان دے دی کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام زبانوں کو جانتے ہیں “۔ (متفق علیہ)
فائدہ :۔۔۔ مترس فارسی زبان کا کلمہ ہے یعنی نہ ڈرو، واللہ اعلم نالصواب۔ (مترجم)