11450- الواقدي: حدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي الحويرث قال: كان يهود من بيت المقدس وكانوا عشرين رأسهم يوسف بن نون، فأخذ لهم كتاب أمان، وصالح عمر بالجابية، وكتب كتابا ووضع عليهم الجزية، وكتب: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أنتم آمنون على دمائكم وأموالكم وكنائسكم ما لم تحدثوا أو تأووا محدثا فمن أحدث منكم أو آوى محدثا فقد برئت منه ذمة الله، وإني بريء من معرة الجيش شهد معاذ بن جبل وأبو عبيدة بن الجراح وكتب أبي بن كعب. "ابن عساكر".
11446 ۔۔۔ واقدی کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا ابوبکر بن عبداللہ بن ابی الحویرث نے اور فرمایا کہ بیت المقدس سے بیس یہودی آئے ان کا سردار یوسف بن نون تھا، ان کے امان کی تحریر لکھوائی اور جابیہ کے بدلے حضرت عمر (رض) کے ساتھ صلح کرلی، حضرت عمر (رض) نے ایک تحریر لکھوائی اور ان پر جزیہ مقرر کیا، اور لکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تمہارے مال اور گرجے محفوظ ہیں جب تک تم خود شرارت نہ کرو اور نہ کسی شرارتی کو پناہ دو ، سو اگر تم میں سے کسی نے کوئی شرارت کی یا شرارتی کو پناہ دی تو اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہوجائے گا اور لشکر کے حملے کی ذمہ داری مجھ پر نہ ہوگی، حضرت معاذ (رض) اور ابوعبیدہ بن الجراح (رض) اس تحریر کے گواہ بنے اور حضرت ابی بن کعب (رض) نے یہ معاہدہ تحریر فرمایا “۔ (ابن عساکر)