11472- عن حارثة بن مضرب أن عمر بن الخطاب أراد أن يقسم أهل السواد بين المسلمين وأمر بهم أن يحصوا فوجد الرجل المسلم نصيبه ثلاثة من الفلاحين يعني العلوج فشاور أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك، فقال علي: دعهم يكونوا مادة للمسلمين فبعث عثمان بن حنيف فوضع عليهم ثمانية وأربعين وأربعة وعشرين واثنى عشر. "أبو عبيد وابن زنجويه والخرائطي ق".
11468 ۔۔۔ حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارادہ کیا کہ اہل سواد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمادیں چنانچہ ان کی گنتی کا حکم دیا تو ایک مسلمان شخص کے حصے میں تین کسان آئے چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے مشورہ فرمایا حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ ان کو چھوڑ دیجئے یہ مسلمانوں کی آمدنی کا ذریعہ ہوں گے چنانچہ حضرت عثمان (رض) بن حنیف (رض) کو بھیجا گیا اور انھوں نے اڑتالیس، چوبیس اور بارو درھم کی مقدار کی “۔ (ابوعبید ، ابن زنجویہ،
خرائبی متفق علیہ)