11481- عن ابن سيرين أن رجلا من أهل نجران الذين صالحوا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجزية أسلم على عهد عمر بن الخطاب، فجاء إلى عمر فقال: إني مسلم ليست علي جزية، فقال: بل أنت متعوذ بالإسلام من الجزية، فقال الرجل: أرأيت إن كنت متعوذا بالإسلام من الجزية كما تقول أما في الإسلام ما يعيذني؟ قال: بلى فوضع عنه الجزية. "ابن زنجويه".
11477 ۔۔۔ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اہل نجران میں سے جن لوگوں نے جزیہ کی شرط پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلح کی تھی ان میں سے ایک شخص حضرت عمر (رض) کے دور میں مسلمان ہوگیا، اور حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوں مجھ ہر جزیہ نہیں لاگو ہوتا تو فرمایا کہ بلکہ تم جزیہ سے بچنے کے لیے مسلمان ہوئے ہو، اس نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر میں جزیے سے بچنے کے لیے مسلمان ہوا ہوتا جیسے کہ آپ فرما رہے ہیں ، تو کیا اسلام میں کوئی چیز نہیں جو مجھے پناہ دے ! تو فرمایا، ہاں ، پھر اس سے جزئی معاف کردیا “۔ (ابن زنجویہ)