hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11484

.

كنز العمال

11484
Kanz al-Ummal
11484- "مسند علي رضي الله عنه" عن نصر بن عاصم قال: قال فروة بن نوفل الأشجعي: علام تؤخذ الجزية من المجوس وليسوا أهل كتاب؟ فقام إليه المستورد فأخذ بتلبيبه، فقال: يا عدو الله أتطعن على أبي بكر وعمر؟ وذهب به إلى القصر، فخرج عليهما علي فقال: البدا ، قال سفيان يقول: اجلسا، فجلسا في ظل القصر فأخبره بقوله، فقال علي: أنا أعلم الناس بالمجوس، كان لهم علم يعلمونه، وكتاب يدرسونه، وإن ملكهم سكر يوما فوقع على ابنته وأخته، فاطلع عليه بعض أهل مملكته، فلما صحا جاؤا يقيمون عليه الحد فامتنع منهم، ودعا أهل مملكته، فقال: أتعلمون دينا خيرا من دين آدم، وقد كان ينكح بنيه بناته، وأنا على دين آدم، فما يرغب بكم عن دينه؟ فبايعوه، وقاتلوا الذين خالفوهم، فأصبحوا وقد أسري على كتابهم، فرفع من بين أظهرهم، وذهب العلم الذي في صدورهم، وهم اهل كتاب وقد أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر منهم الجزية. " الشافعي والعدني ع وابن زنجويه في الأموال هق".
11480 ۔۔۔ مسند علی (رض) سے نظر بن عاصم روایت کرتے ہیں فرمایا کہ فروۃ بن نوفل الاشجعی نے فرمایا کہ کس بناء پر مجوسیوں سے جزیہ لوگے جبکہ وہ اہل کتاب بھی نہیں ؟ تو حضرت مستورد کھڑے ہوئے اور ان سے بات کرنے لگے اور فرمایا کہ اے اللہ کے دشمن ! کیا تو حضرت ابوبکر وعمر (رض) پر طعن کرتا ہے، پھر ان کو لے کر حضرت علی (رض) کے گھر کی طرف گئے، حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ میں مجوسیوں کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ، ان کی علامت ہوتی ہے جو وہ پہچانتے ہیں ان کی کتاب ہے جو وہ پڑھتے پڑھاتے ہیں اور ان کا بادشاہ ایک ایک دن نشے کی حالت میں اپنی بیٹی اور بہن سے زنا کر بیٹھا ، رعایا میں سے بعض لوگوں کو علم ہوگیا جب کہا کہ کیا تم دنیا میں آدم (علیہ السلام) کے دین سے بہتر کسی دین سے واقف ہو اور وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کی آپس میں شادی کروایا کرتے تھے اور میں آدم (علیہ السلام) کے دین پر ہوں ، سو جو لوگ اپنے دین سے برگشتہ ہو کر اس کے پیروکار ہوگئے انھوں نے مخالفوں سے جنگ کی ، سواگلے ہی دن ان سے ان کی کتاب اٹھالی گئی اور جو علم ان کے سینوں میں تھا وہ بھی اٹھالیا گیا اور وہ اہل کتاب ہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر (رض) نے ان سے جزیہ لیا ہے “۔ (الشافعی ، عدنی ، ابویھلی، ابن زبجویہ فی الاموال سنن کبری بیھقی)