11499- عن يحيى بن سعيد أن عمر أجلى أهل نجران اليهود والنصارى واشترى بياض أرضهم وكرومهم، فعامل عمر الناس: إن هم جاؤا بالبقرة والحديد من عندهم فلهم الثلثان، ولعمر الثلث، وإن جاء عمر بالبذر من عنده فله الشطر وعاملهم النخل على أن لهم الخمس ولعمر أربعة أخماس، وعاملهم الكرم على أن لهم الثلث، ولعمر الثلثان. "ش".
11495 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نجران کے یہودیوں اور عسائیوں کو جلاوطن کردیا، اور ان کے زمین کا اچھا حصہ اور انگوروں کے باغات خرید لئے، اور ان زمینوں کا لوگوں کے ساتھ اس طرح معاملہ کیا کہ اگر وہ گائے اور ہل اپنے پاس سے لے کر آئیں گے تو دو تہائی ان کا اور ایک تہائی حضرت عمر (رض) کا اور اگر حضرت عمر (رض) نے بیچ اپنے پاس سے دیا تو ان کا ایک حصہ اور ہوھا، اور کھجوروں کے درختوں کا معاملہ اس طرح کیا کہ ان کے لیے ایک خمس اور حضرت عمر (رض) کے چار خمس اور انگوروں کا معاملہ اس طرح کیا کہ ایک تہائی کام کرنے والوں کے لیے اور دوتہائی حضرت عمر (رض) کیلئے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)