11507- "مسند عمر رضي الله عنه" عن مغيرة بن السفاح ابن المثنى الشيباني عن زرعة بن النعمان، أو النعمان بن زرعة أنه سأل عمر ابن الخطاب، وكلمه في نصارى بني تغلب، قال: وكان عمر قد هم أن يأخذ منهم الجزية فتفرقوا في البلاد، فقال النعمان بن زرعة لعمر: يا أمير المؤمنين إن بني تغلب قوم عرب يأنفون من الجزية، وليست لهم أموال إنما هم أصحاب حروث ومواش، ولهم نكاية في العدو، فلا تعن عدوك عليك بهم، فصالحهم عمر على أن أضعف عليهم الصدقة، واشترط عليهم أن لا ينصروا أولادهم، قال مغيرة: فحدثت أن عليا قال: لئن تفرغت لبني تغلب ليكونن لي فيهم رأي لأقتلن مقاتلتهم، ولأسبين ذراريهم، قد نقضوا العهد، وبرئت منهم الذمة حين نصروا أولادهم. "أبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال".
11503 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے مغیرہ بن سفاح بن المثنیٰ الشیبانی ، زرعۃ بن النعمان سے یا نعمان بن زرعۃ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا ، حضرت عمر (رض) ان سے بنوتغلب کے عسائیوں کے بارے کررہے تھے اور حضرت عمر (رض) کا ارادہ تھا کہ ارادہ تھا کہ ان سے جزیہ لیں اور وہ مختلف شہروں میں پھیل گئے تھے، تو نعمان بن زرعۃ نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا کہ، اے امیر المومنین ، بنوتغلب والے عرب ہیں اور جزیہ کو پسند نہیں کرتے ان کے پاس مال بھی نہیں وہ صرف کھیتی باڑی کرتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں، اور دشمن پر غالب آجاتے ہیں ، لہٰذا ان سے لڑ کر ان کو اپنے دشمن کی مدد پر ابھاریں ، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان سے اس شرط پر صلح کرلی کہ بنوتغلب
والے دو گناہ صدقہ ادا کریں گے اور یہ بھی شرط لگائی کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائی نہ بنائیں گے۔
۔۔۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر میں بنوتغلب کے لیے فارغ ہوتا تو ان کے بارے میں ضرور میری بھی ایک رائے ہوتی، میں ان کے ساتھ زبردست جنگ کرتا، اور ضروران کی اولادوں کو قیدی بناتا ، جب سے انھوں نے اپنی اولاد کو عسائی بنایا ہے تو ان کا ذمہ ختم ہوگیا ہے اور انھوں نے وعدہ خلافی کی ہے ”۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ معافی الاموال)