11523- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أنس قال: بارز البراء ابن مالك مرزبان الزارة، فطعنه طعنة كسرت القربوص وخلصت الطعنة إليه فقتلته، فصلى عمر الصبح، ثم أتانا فقال: إنا كنا لا نخمس الأسلاب، وإن سلب البراء قد بلغ مالا، ولا أراني إلا خامسه فقوم ثلاثين ألفا فأعطانا عمر ستة آلاف، فكان أول سلب خمس في الإسلام. "عب وأبو عبيد في كتاب الأموال ش وابن جرير وأبو عوانة والطحاوي والمحاملي في أماليه".
11519 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت انس (رض) روایت فرماتے ہیں کہ براء بن مالک نے مرزبان الزرارۃ سے مبارزۃ (مقابلہ) کیا، اور ایسا نیزہ مارا کہ جس سے ذرہ ٹوٹ گئی اور نیزے کا پھل اندر گھس گیا اور براء بن مالک قتل ہوگیا، حضرت عمر (رض) صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہم چھینے ہوئے مال سے خمس نہ لیا کرتے تھے لیکن براء کا مسلوبہ مال بہت زیادہ ہے اور مجھے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا بھی خمس نکالوں ، چنانچہ اس کی قیمت تیس ہزار مقرر کی اور حضرت عمر (رض) نے ہمیں چھ ہزار دینار عطا فرمائے ، چنانچہ پہلی مرتبہ تھی کہ اسلام میں کسی مقتول کے چھینے ہوئے مال سے خمس وصول کیا گیا۔ (عبدالرزاق، ابوعبید فی کتاب الاموال، ابن ابی شیبہ، ابن جریر ، ابوعوانہ، طحاوی، اور محاملی فی امالیہ)