11537- عن يزيد بن عبد الله بن قسيط أن أبا بكر الصديق بعث عكرمة بن أبي جهل في خمسمائة من المسلمين مددا لزياد بن لبيد، وللمهاجر بن أبي أمية فوافقهم الجند قد فتحوا النجير باليمن فأشركهم زياد ابن لبيد في الغنيمة فكتب أبو بكر إنما الغنيمة لمن شهد الوقعة. "الشافعي هق".
11533 ۔۔۔ یزید بن عبداللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت عکرمہ (رض) بن ابی جھل کو پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ زیادبن لبید اور مہاجرین ابی امیہ کی مدد کے لیے بھیجا، لشکر کے حالات ہوگئے اور انھوں نے یمن میں نجیرنامی علاقہ فتح کرلیا لیکن زیاد بن لبید نے مال غنیمت میں مدد کے لیے آنے والے لشکر کو بھی شریک کرلیا “۔ (جو فتح کے بعد پہنچا تھا) چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لکھا کہ مال غنیمت میں اسی کا حق ہے جو واقعہ کے دوران موجود تھا “۔ (الشافعی، سنن کبری بیھقی)