11560- عن ابن الأقمر قال: أغارت الخيل بالشام، فأدركت الخيل من يومها وأدركت الكواذن ضحى، وعلى الخيل المنذر بن أبي حمصة همداني، ففضل الخيل على الكواذن، وقال: لا أجعل ما أدرك كما لم يدرك، فبلغ ذلك عمر بن الخطاب، فقال: هبلت الوادعي أمه لقد أذكرت به أمضوها على ما قال. "الشافعي ق".
11556 ۔۔۔ ابن الاقمر کہتے ہیں کہ عرب گھوڑوں نے شام میں خوب گھمسان کا رن ڈالا اور وہ دن مارلیا اور غیر عربی گھوڑوں نے چاشت کے وقت اپنی کامیابی کے جو ھردکھائے عربی گھوڑوں کے لشکر پر منذربن ابی حمصہ ھمدانی تھے، بہرحال عربی گھوڑوں کو غیر عربی گھوڑوں پر برتری حاصل رہی، تو منذر ہے کہا میں کسی کی معمولی کارکردگی نہ ہونے کی طرح نہ سمجھوں گا یہ بات حضرت عمر (رض) کو معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اس کی ماں اس جیسا دوسرا لانے سے عاجر ہے جو اس نے ذکر کردیا کر گزروجو وہ کہہ رہا ہے۔ (الشافعی، متفق علیہ)
فائدہ :۔۔۔ یہاں اصل عبارت میں لفظ ” ھبلت الواعی امہ “ ہے یہ جملہ عام طور پر بددعا کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی مدح واستحسان میں بھی استعمال ہوتا ہے (جیسے یہاں ہوا ہے) مراد یہ ہے کہ وہ کتنا بڑا عالم اور صائب الرائے ہے “۔ واللہ اعلم باالصواب۔ (مترجم) (دیکھیں مصاح اللغات بر 974 کالم مادہ ب ل)