hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11573

.

كنز العمال

11573
Kanz al-Ummal
11573- عن رعية السحيمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إليه كتابا في أديم أحمر، فرقع به دلوه، وأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فلم يدعوا له سارحة ولا بارحة ولا أهلا ولا مالا إلا أخذوه، فأفلت عريانا، ومضى إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأتاه مع صلاة الصبح وهو يصلي، فلما قضى صلاته قال: ابسط يدك أبايعك، فبسط رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فلما اراد ان يضرب عليهما قبضها رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل ذلك مرارا، ثم أقبل عليه فقال: رعية السحيمي فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بعضده، فرفعها من الأرض، وقال: هذا رعية السحيمي، كتبت إليه كتابا فرقع به دلوه، وقال رعية: مالي وولدي، فقال: أما مالك فهيهات قد قسم، وأما ولدك وأهلك فمن أصبت منهم، فمضى، ثم عاد وإذا ابنه قد عرفه، فرجع إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هذا ابني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بلال اخرج معه، فإن زعم أنه ابنه فادفعه، فخرج معه، فقال: هو أبي فدفعه إليه، وأقبل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ذكر أنه ابنه،وما رأيت أحد منهما استعبر إلى صاحبه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ذاك جفاء الأعراب. "طب".
11569 ۔۔۔ رعیۃ سحیمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سرخ چمڑے پر خط لکھا تو اس کا پیوند بناکر اپنے ڈول میں لگالیا، اس بات کی اطلاع جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستہ روانہ فرمایا جس نے ان کے نہ دن کو جانے والے جانور چھوڑے ، نہ رات کو چرکر آنے والے ، نہ گھر والے نہ مال و اسباب بلکہ سب کچھ لے لیا، رعیۃ بےلباس کی حالت میں نکلنے میں کامیاب ہوگئے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ ہوئے اور صبح کی نماز کے وقت وہاں پہنچے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر اور فرما رہے تھے جب نماز مکمل فرماچکے تو رعیہ نے عرض کیا کہ، اپنا ہاتھ بڑھاپے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں گا، چنانچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست مبارک پڑھایا جب رعیہ ہاتھ بڑھایا جب رعیہ ہاتھ بڑھانے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک پیچھے کھینچ لیا، چند مرتبہ اسی طرح ہوا ، پھر سامنے آئے اور عرض کیا کہ میں رعیہ سحیمی ہوں ، تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں باز و سے پکڑ کر زمین سے اٹھالیا اور فرمایا کہ یہ رعیۃ اسحیمی ہیں ، میں نے ان کو خط لکھا تھا جس کا انھوں نے پیوند بناکر ڈول میں لگالیا، رعیۃ نے عرض کیا، میرے گھر والے اور میرا مال ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، مال تو تیرا تقسیم ہوچکا رہا تیرا بیٹا اور گھر والے تو دیکھ لوکون ملتا ہے ؟ چنانچہ ، وہ روانہ ہوئے پھر واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے ان کو پہچان لیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف واپس آئے اور عرض کیا یہ میرا بیٹا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے بلال ان کے ساتھ جاؤ اور اگر معلوم ہو کہ وہ ان کا بیٹا ہے تو ان کے حوالے کردو، چنانچہ حضرت بلال (رض) روانہ ہوئے تو اس لڑکے نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں تو حضرت بلال (رض) نے بیٹا ان کے حوالے کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آئے اور عرض کیا وہ اسی کا بیٹا ہے اور میں نے دونوں میں سے ایک کو بھی دوسرے کے لیے آنسو بہاتے نہیں دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ تو دیہاتیوں کی سخت دلی ہے “۔ (طبرانی)