11582- عن أبي هريرة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم أبان بن سعيد بن العاص على سرية من المدينة، فقدم أبان وأصحابه على رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر بعد فتحها وإن حزم خيلهم لليف، فقال أبان: اقسم لنا يا رسول الله، قال أبو هريرة: فقلت لا تقسم لهم يا رسول الله، فقال أبان أنت بها وبر تحدر من رأس ضأن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اجلس يا أبان ولم يقسم لهم. "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
11578 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابان بن سعید ب العاص کو مدینہ منورہ سے ایک دستہ دے کر بھیجا، چنانچہ ابان اور ان کے ساتھی خبیر کی فتح کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے اور ان کے گھوڑوں کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے، حضرت ابان نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارا حصہ عطا فرمایئے حضرت ابو ہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کو حصہ نہ دیجئے تو حضرت ابان نے مجھ سے کہا کہ تم بالوں کا گچھا ہو جو بھیڑے کے سر سے گرا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، اے ابان تم بیٹھ جاؤ، لیکن ان کو حصہ نہیں دیا۔ (الحسن بن سفیان اور ابونعیم)