11631- عن عمر أنه كتب إلى سعد يقطع سعيد بن زيد أرضا، فأقطعه أرضا لبني الرفيل، فأتى ابن الرفيل عمر، فقال: يا أمير المؤمنين على ما صالحتمونا؟ قال: على أن تؤدوا لنا الجزية، ولكم أرضكم وأموالكم، قال: يا أمير المؤمنين أقطعت أرضي لسعيد بن زيد، فكتب إلى سعد يرد إليه أرضه، ثم دعاه إلى الإسلام فأسلم، ففرض له عمر سبعمائة، وجعل عطاءه في خثعم، قال: إن أقمت في أرضك أديت عنها ما كنت تؤدي. "ق" وقال في إسناده ضعف.
11667 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت سعید (رض) کو لکھا کہ سعید بن زید کو کچھ زمین دے دیں ، تو حضرت سعد (رض) نے ابن الرفیل کی زمین میں سے ان کو دے دی، چنانچہ ابن الرفیل حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا کے اے امیرالمومنین ہماری اور آپ کی صلح کس شرط پر ہوئی تھی ، فرمایا اس شرط پر کہ تم جزیہ دوگے اور تمہاری زمینیں اور مال تمہارے پاس ہی رہیں گے ، عرض کیا ، یا امیرالمؤمنین، میری زمین سعید ابن زید کے حوالے کی گئی ہے، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کو لکھا کہ وہ زمین واپس کردیں ، پھر ابن الرفیل کو اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہوگیا ، تو اس کے لیے سات سو مقرر کیا اور اس کے اس عطاکو خشعم میں رکھا اور فرمایا کہ اگر تو اپنی زمین پر رہے اور جو دیتا تھا دیتا رہے “۔ (متفق علیہ)