hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11672

.

كنز العمال

11672
Kanz al-Ummal
11672- عن ابن عباس قال: دعاني عمر بن الخطاب، فأتيته فإذا بين يديه نطع عليه الذهب منثور نثر الحثا، فقال ابن عباس أتدري ما الحثا؟ فذكر التبن، فقال: هلم فاقسم هذا بين قومك، فالله أعلم حيث زوى هذا عن نبيه صلى الله عليه وسلم، وعن أبي بكر، فأعطيته، لخير أعطيته أم لشر؟ ثم بكى، وقال: كلا والذي نفسي بيده ما حبسه عن نبيه وعن أبي بكر إرادة الشر بهما، وأعطاه عمر إرادة الخير له. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد وابن راهويه والشاشي" وحسن.
11668 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے بلایا ، میں آیا تو دیکھا کہ ان کے سامنے ایک چمڑے کی چٹائی بچھی ہوئی ہے اور اس پر مٹھیاں بھربھر سونا بکھرا پڑا ہے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کیا آپ کو معلوم ہے کہ مٹھی بھر کیا ہے ؟ توڈلی کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ یہاں آؤ اور یہ اپنی قوم کے درماین قسیم کردو، اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کیوں اس کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے دور رکھا گیا اور مجھے دیا گیا، کسی بھلائی کے لیے مجھے دیا گیا یا برائی کے لیے ؟ پھر روپڑے اور فرمایا کہ ہرگز نہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکرصدیق (رض) سے کسی برائی کی وجہ سے نہیں روکا گیا، اور نہ عمرکودیا گیا کسی بھلائی کے لیے “۔ (ابوعبید فی الاموال ، ابن سعد، ابن راھویہ، شاشی)